لیڈرشپ سیکھنی ہے تو جانوروں سے سیکھیں.
کہا جاتا ہے کہ لیڈرشپ کا مطلب صرف سب سے آگے بڑھنا نہیں، بلکہ دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا بھی ہے۔ مگر حقیقی قیادت کا جو منظر ہمیں بھیڑیوں کے جھنڈ میں نظر آتا ہے، وہ شاید انسانی معاشرے میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
یہ تصویر ایک کینیڈین فوٹوگرافر نے اس وقت کھینچی جب وہ بھیڑیوں کے ایک جھنڈ کی وڈیو ریکارڈ کر رہے تھے۔ اس منظر نے لیڈرشپ کا ایک ایسا نادر سبق دیا جو نہ صرف قدرتی دنیا بلکہ انسانی دنیا کے لیڈرز کے لیے بھی ایک رہنما اصول بن سکتا ہے۔
بھیڑیوں کا جھنڈ Wolfpack اور لیڈرشپ
یہ جھنڈ ایک خاص ترتیب میں چل رہا تھا اور اس ترتیب میں گہری حکمت اور دور اندیشی پوشیدہ تھی۔ سب سے آگے وہ بوڑھے اور کمزور بھیڑیے تھے، وہ جو کبھی اس جھنڈ کی طاقت ہوا کرتے تھے۔ یہ وہ رہنما ہیں جن کا تجربہ اور حکمت آج بھی قیمتی ہے، اور جھنڈ انہیں عزت دیتا ہے، انہیں سب سے آگے رکھتا ہے۔
ان کے پیچھے وہ جوان اور طاقتور بھیڑیے تھے جو سب سے زیادہ مضبوط اور تیز تھے۔ ان کا کام جھنڈ کی حفاظت کرنا اور کسی بھی خطرے کی صورت میں پہلا دفاع فراہم کرنا تھا۔
اس کے بعد وہ بھیڑیے آتے تھے جو اس جھنڈ کا مستقبل تھے: بچے اور مادہ بھیڑیے۔ یہ وہ قیمتی اثاثہ تھے جنہیں سب سے زیادہ تحفظ کی ضرورت تھی، کیونکہ انہی کے ذریعے نسل آگے بڑھنی تھی۔
ان کے پیچھے دوبارہ وہی طاقتور محافظ چل رہے تھے، تاکہ اگر کوئی حملہ پیچھے سے ہو تو یہ جھنڈ کو محفوظ رکھ سکیں۔
اور سب سے آخر میں، سب سے پیچھے، تنہا چلنے والا ایک بھیڑیا تھا… اور وہ جھنڈ کا لیڈر تھا۔
لیڈرشپ: سب سے آگے نہیں، سب کے پیچھے
یہی حقیقی لیڈرشپ کا سب سے بڑا سبق ہے۔ ایک لیڈر سب سے آگے نہیں ہوتا، وہ سب کے پیچھے ہوتا ہے تاکہ وہ سب کو دیکھ سکے، سب کا خیال رکھ سکے، سب کی حفاظت یقینی بنا سکے۔ لیڈر کی جگہ سب سے آخر میں ہوتی ہے، کیونکہ اس کی نظر سب پر ہوتی ہے اور وہ ہر ممکن طریقے سے اپنی ٹیم، اپنی قوم، یا اپنے ادارے کو کامیابی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے کام کرتا ہے۔
یہ مثال خاص طور پر ہمارے معاشرے، اداروں اور لیڈرز کے لیے ایک زبردست سبق ہے۔ عام طور پر لیڈرشپ کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو سب سے آگے ہو، سب سے نمایاں ہو، سب سے زیادہ داد وصول کرے، وہی اصل لیڈر ہے۔ لیکن بھیڑیوں کا جھنڈ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل لیڈر وہ ہوتا ہے جو پیچھے ہو کر سب کو آگے بڑھنے دے، جو خود کم نظر آئے مگر دوسروں کو تحفظ دے، جو سب کو ان کے بہترین مقام پر رکھے۔
یہ منظرنامہ ہمیں لیڈرشپ کے علاوہ بھی کئی اہم چیزیں سکھاتا ہے:
1. بزرگوں کا احترام اور ان سے سیکھنا
ہمارے معاشرے میں بزرگوں اور تجربہ کار افراد کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ ان کے پاس وہ حکمت اور تجربہ ہوتا ہے جو نوجوانوں کو صحیح راستہ دکھا سکتا ہے۔ بھیڑیے اپنے بوڑھوں کو سب سے آگے رکھ کر انہیں عزت دیتے ہیں اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کیا ہمارے ادارے اور قوم کے لیڈر ایسا کرتے ہیں؟
2. جوان قیادت کی طاقت
طاقتور اور نوجوان افراد کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتے ہیں، لیکن اگر انہیں صحیح سمت نہ دی جائے تو وہ بکھر جاتے ہیں۔ جیسے بھیڑیوں کے جھنڈ میں جوان بھیڑیے نظم و ضبط کے ساتھ چلتے ہیں، ویسے ہی قوموں کو اپنی نوجوان نسل کو درست راستہ دکھانا ہوتا ہے تاکہ وہ ملک کی طاقت بنے، نہ کہ بوجھ۔
3. مستقبل کو محفوظ کرنا
مادہ بھیڑیے اور بچے درمیان میں ہوتے ہیں، سب سے محفوظ جگہ پر۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر کسی قوم کو مضبوط بننا ہے تو اسے اپنے بچوں اور خواتین کو محفوظ، تعلیم یافتہ اور بااختیار بنانا ہوگا۔ جب تک قومیں اپنی آنے والی نسل کو تحفظ نہیں دیتیں، وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتیں۔
4. اصل لیڈر وہ ہے جو سب کے پیچھے ہو
ہمارے ہاں اکثر لیڈر سب سے آگے کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں، نمایاں ہونا چاہتے ہیں، کریڈٹ لینا چاہتے ہیں۔ لیکن ایک حقیقی لیڈر وہی ہوتا ہے جو سب کے پیچھے ہوتا ہے، تاکہ سب کو دیکھ سکے، سب کی راہ نمائی کر سکے، سب کو آگے بڑھنے کا موقع دے سکے۔
یہ مثال ہمیں ایک طاقتور حقیقت دکھاتی ہے: قیادت کا مطلب یہ نہیں کہ تم سب سے آگے بھاگو، بلکہ یہ کہ تم سب کو صحیح ترتیب میں لے کر چلو، سب کو ان کی جگہ پر رہنے دو، سب کی طاقت کو صحیح سمت میں استعمال کرو، اور سب سے آخر میں رہ کر سب پر نظر رکھو تاکہ کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔
اگر ہماری پاکستانی لیڈرشپ چاہے وہ حکومتی سطح پر ہو، تعلیمی اداروں میں ہو، یا کاروباری دنیا میں ہو، اس اصول کو اپنا لے تو ہم ایک مضبوط، منظم اور ترقی یافتہ قوم بن سکتے ہیں۔
یاد رکھیں اصل لیڈر وہی ہے جو سب کی حفاظت کرے، سب کو آگے بڑھنے دے اور خود سب سے آخر میں چلے، کیونکہ یہی لیڈر کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
توصیف اکرم نیازی